لائیو ٹی وی

مہاراشٹر: کانگریس دفتر سے آدیواسی طلبہ کی گرفتاری پر شدید ردعمل

کانگریس نے پولیس کے ذریعہ سینکڑوں آدیواسی طلبہ کی گرفتاری کو ’ڈبل انجن حکومت‘ کی شرمناک کارروائی قرار دیا۔

مختصر جواب

کانگریس نے مہاراشٹر پولیس کے ذریعہ کانگریس دفتر میں جبراً داخل ہو کر احتجاج کر رہے سینکڑوں آدیواسی طلبہ کو گرفتار کیے جانے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس نے اس کارروائی کو 'نام نہاد ڈبل انجن حکومت' کی شرمناک اور آدیواسی مخالف قرار دیا ہے۔

اہم نکات

  • مہاراشٹر پولیس نے کانگریس دفتر میں داخل ہو کر سینکڑوں آدیواسی طلبہ کو گرفتار کیا۔
  • یہ طلبہ آدیواسی رہائشی اسکولوں کی بدحالی کے خلاف ناسک سے ممبئی تک پیدل مارچ کر رہے تھے۔
  • کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے حکومت کو 'آدیواسی مخالف' قرار دیا۔
  • کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے پولیس کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا۔
  • کانگریس نے آدیواسی طلبہ کی آواز دبانے کی کوشش کو ناکام بنانے کا عزم ظاہر کیا۔
ایک گلی میں لوگوں کا ہجوم اور ایک ہال میں پولیس اہلکار اور لوگ کھڑے ہیں۔
کانگریس نے مہاراشٹر پولیس کے ذریعہ اپنے دفتر سے سینکڑوں آدیواسی طلبہ کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔

کانگریس نے مہاراشٹر پولیس کے ذریعہ کانگریس دفتر میں جبراً داخل ہو کر احتجاج کر رہے سینکڑوں آدیواسی طلبہ کو گرفتار کیے جانے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر مہاراشٹر کانگریس صدر کی ایک ویڈیو پوسٹ کی۔ جے رام رمیش لکھتے ہیں کہ ’’نام نہاد ڈبل انجن حکومت پر شرم آنی چاہیے، جو واضح طور پر آدیواسی مخالف ہے۔‘‘ کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ناسک سے پیدل مارچ نکال کر ممبئی پہنچنے والے آدیواسی طلبہ تلک بھون میں قیام کیے ہوئے ہیں، اس دوران آدھی رات سے پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے دفتر میں زبردستی داخل ہو رہی ہے۔ طلبہ کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے انہیں دھمکانے اور حراست میں لینے کی کوشش جاری ہے۔‘‘

کانگریس رہنما ہرش وردھن سپکال مزید لکھتے ہیں کہ ’’ پولیس ہمارے دفتر میں غیر قانونی طور پر داخل ہوکر قبائلی طلبہ کو دھمکانے اور انہیں زبردستی حراست میں لینے کی کوشش فوری طور پر بند کرے۔ قانون و نظم برقرار رکھنے کی ذمہ داری رکھنے والی پولیس کی جانب سے ہی اگر قانون کی خلاف ورزی کی جا رہی ہو تو یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’آدیواسی طلبہ کی آواز دبانے کی اس کوشش کو ہم کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ طلبہ کے جائز حقوق کے لیے کانگریس پارٹی مضبوطی سے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔‘‘

کانگریس نے بھی اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر واقعے کی ویڈیو شیئر کر لکھا کہ ’’بی جے پی کا آدیواسی مخالف چہرہ دیکھیے۔ مہاراشٹر پولیس نے کانگریس دفتر میں داخل ہو کر سینکڑوں آدیواسی طلبہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ طلبہ آدیواسی رہائشی اسکولوں کی بدحالی کو لے کر احتجاج کر رہے ہیں اور ناسک سے احتجاج کرتے ہوئے ممبئی پہنچے ہیں۔ ٹھہرنے کی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کانگریس دفتر میں رکنے کی جگہ دی گئی تھی، لیکن بی جے پی حکومت سے یہ برداشت نہیں ہوا۔‘‘ پارٹی نے مزید لکھا کہ ’’کل رات سے ہی ممبئی پولیس ان طلبہ کو گرفتار کر رہی ہے۔ پہلے آزاد میدان سے گرفتار کیا گیا اور اب کانگریس دفتر سے گرفتاری ہوئی ہے۔ بی جے پی حکومت یاد رکھے، کتنا بھی زور لگا لو، نوجوانوں کی آواز دبنے والی نہیں ہے۔ اب نوجوان حساب کرے گا۔‘‘

Share this story

WhatsAppXFacebook