مودی حکومت میں مہنگائی دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے اور غریب و متوسط طبقہ کے لیے 2 وقت کا کھانا بھی محال نظر آنے لگا ہے۔ اخبارات میں مہنگائی سے متعلق خبریں مستقل شائع ہو رہی ہیں، لیکن برسراقتدار طبقہ اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے آج ایک اخباری رپورٹ اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کر بتایا کہ مہنگائی کے سبب کس طرح گھریلو خواتین کے لیے باورچی خانہ سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے۔
جئے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’مہنگائی صرف بازار کے اعداد و شمار میں نہیں بڑھ رہی، اس کا درد ہر متوسط طبقہ اور غریب گھروں کی رسوئی میں محسوس ہو رہا ہے۔ تہواروں کے موسم میں رسوئی کا بجٹ 3 ماہ میں 25 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔‘‘ اخباری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ ’’اس خبر میں ایک گھریلو خاتون نے بتایا کہ ان کی آمدنی صرف 35 ہزار روپے ہے، اور اتنی محدود آمدنی میں رسوئی کا خرچ سنبھالنا بے حد مشکل ہو گیا ہے۔‘‘
مہنگائی کے معاملہ میں مرکز کی مودی حکومت کی بے حسی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ ’’کیا مودی جی کو احساس ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں یہ سارے کنبے اپنے گھر کا بجٹ کس طرح سنبھال رہے ہوں گے؟‘‘ کچھ اجناس کی قیمتوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ’’ارہر دال 105 روپے سے 150 روپے کلو، مونگ دال 95 روپے سے 120 روپے کلو، چاول 42 سے 55 روپے کلو اور سرسوں تیل 165 روپے سے 190 روپے لیٹر پہنچ گیا۔ حکومت کے اپنے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اگست میں خوردہ مہنگائی 5.95 فیصد تھی۔ پیاز 48.27 فیصد، ادرک 73.82 فیصد اور لہسن 43.60 فیصد مہنگا ہوا۔‘‘
جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ دال، مسالے، سبزیاں، تیل... ہر طرف مہنگائی کی مار ہے۔ حکومت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گھریلو بچت گھٹ رہی ہے اور کنبوں پر قرض بڑھ رہا ہے۔ عام فیملی کے سامنے سوال صرف بڑھتے خرچ کا نہیں، گھٹتی بچت اور محدود آمدنی میں گھر چلانے کا بھی ہے۔ کانگریس لیڈر کے مطابق حکومت کے لیے یہ اعداد و شمار ہو سکتے ہیں، لیکن عوام کے لیے ہر ماہ بگڑتا ہوا گھریلو بجٹ ہے۔ انھوں نے سوالیہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’کمر توڑ مہنگائی سے ہندوستانی باشندوں کو چھٹکارا کب ملے گا؟ تقریر کرنے والے وزیر کی بے حسی کی کوئی حد نہیں ہے۔‘‘
