لائیو ٹی وی

رام مندر چندہ چوری: کانگریس کا مودی حکومت سے 105 واقعات پر 8 ملزمان پر سوال

جے رام رمیش نے رام مندر میں چڑھاوے کی چوری پر حکومت کی نرمی اور جانچ میں تاخیر پر سوال اٹھائے۔

مختصر جواب

کانگریس نے رام مندر میں چڑھاوے کی چوری کے 105 واقعات کے باوجود صرف 8 ملزمان کی گرفتاری اور 79.85 لاکھ روپے کی برآمدگی کے بعد معاملے کو بند کرنے کی جلدی پر مودی حکومت سے سوالات کیے ہیں۔

اہم نکات

  • کانگریس نے رام مندر میں چڑھاوے کی چوری کے 105 واقعات پر مودی حکومت سے سوالات کیے ہیں۔
  • جے رام رمیش نے 105 واقعات کے باوجود صرف 8 ملزمان پر کارروائی اور 79.85 لاکھ روپے کی برآمدگی پر سوال اٹھایا۔
  • انہوں نے چمپت رائے اور انیل مشرا کو ملزم بنانے کے بجائے گواہ بنائے جانے پر بھی سوال اٹھایا۔
  • جے رام رمیش نے 4 جون سے 25 جون کے درمیان ایف آئی آر درج کرنے میں 21 دن کی تاخیر پر وضاحت طلب کی۔
  • کانگریس نے اس معاملے میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزاد اور غیر جانب دار جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
  • وزیر اعظم نریندر مودی سے اس معاملے پر خاموشی توڑنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایک شخص مائیکروفون کے سامنے سفید قمیض اور چشمہ پہنے ہوئے بات کر رہا ہے۔
کانگریس نے رام مندر میں چڑھاوے کی چوری کے واقعات پر مودی حکومت سے سوالات اٹھائے ہیں۔

کانگریس پارٹی نے ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے کی چوری کو لے کر مودی حکومت سے سوالات کیے ہیں۔ کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں اسے ’چندہ چوری، عقیدت سے دھوکا‘ قرار دیتے ہوئے پوچھا کہ بھگوان شری رام کے مندر میں چڑھاوے کی چوری کرنے والوں کے تئیں حکومت اتنی نرمی کیوں برت رہی ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ حکومت اپوزیشن لیڈروں کے خلاف ای ڈی اور سی بی آئی کے استعمال سے پیچھے نہیں ہٹتی، لیکن رام مندر میں چڑھاوے کی چوری کے 105 واقعات سی سی ٹی وی میں قید ہونے کے باوجود جانچ ان لوگوں تک کیوں نہیں پہنچی، جن پر چوروں کو بچانے کا شبہ ہے اور جو نظام برقرار رکھنے کے لیے ذمہ دار تھے۔

جے رام رمیش نے سوال کیا کہ چوری کے 105 واقعات کے باوجود معاملے میں صرف 8 ملزم کیسے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ 105 واقعات میں صرف 79.85 لاکھ روپے کی برآمدگی کے بعد معاملے کو بند کرنے کی اتنی جلدی کیوں ہے؟ انہوں نے چمپت رائے اور انیل مشرا کو ملزم بنانے کے بجائے گواہ بنائے جانے پر بھی سوال اٹھایا۔ جے رام رمیش نے پوچھا کہ آخر ایسا کیوں ہے اور کیا جانچ کا مقصد صرف چڑھاوے کی چوری کرنے والے چھوٹے ملزمان تک محدود رکھنا تھا یا ان لوگوں کی جواب دہی طے کرنا بھی تھا، جن کی نگرانی میں یہ سب ہوتا رہا۔

کانگریس جنرل سکریٹری نے 4 جون سے 25 جون کے درمیان پیش آنے والے واقعات کی ترتیب کو لے کر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق چوری کی رقم کی ویڈیو 4 جون کو چمپت رائے تک پہنچی، 5 جون کو سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا اور 25 جون کو ایف آئی آر درج کی گئی۔ انہوں نے پوچھا کہ ان 21 دن کی تاخیر کی پوری حقیقت ملک کے سامنے کیوں نہیں رکھی گئی۔ جے رام رمیش نے یہ بھی سوال کیا کہ اعلیٰ سطح کی ملی بھگت، لاپروائی یا سرپرستی کے بغیر اتنے سارے واقعات کیسے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر 105 واقعات سامنے آئے تو اب تک چوری کی کل رقم کا پتہ کیوں نہیں ہے اور جانچ ختم کرنے کی اتنی جلدی کیوں کی جا رہی ہے۔

جے رام رمیش نے کہا کہ کانگریس نے شروع سے ہی اس معاملے میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزاد، غیر جانب دار اور قابل اعتماد جانچ کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چڑھاوا بھگوان رام کے نام پر دیا گیا تھا اور 105 واقعات کے بعد بھی اگر چوری کی کل رقم کا پتہ نہیں ہے تو جانچ ختم کرنے کی جلد بازی کیوں ہے؟ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اس معاملے پر خاموشی توڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پوچھا کہ حکومت چڑھاوے کی چوری کرنے والوں تک پہنچنا چاہتی ہے یا ان سوالات کو دبانا چاہتی ہے جو بڑے ذمہ دار لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ جے رام رمیش نے کہا کہ اب ملک جاننا چاہتا ہے کہ چڑھاوے کی چوری کے لیے جوابدہی کب طے ہوگی۔

Share this story

WhatsAppXFacebook