لائیو ٹی وی

اسپین میں ہاؤسنگ بحران کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر

حکومت کی ہاؤسنگ قانون سازی میں ناکامی کے بعد ملک گیر احتجاجی مظاہرے

مختصر جواب

اسپین میں ہاؤسنگ بحران کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاج کیا کیونکہ حکومت ہنگامی ہاؤسنگ قانون سازی منظور کرانے میں ناکام رہی، جس سے کرایہ داروں کے لیے زیادہ تحفظ اور کرایوں میں کمی کا مطالبہ کیا گیا۔

اہم نکات

  • اسپین کے مختلف شہروں میں تقریباً 50 احتجاجی مارچ نکالے گئے۔
  • مظاہرین کرایوں میں کمی اور بے دخلی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
  • ویلنسیا میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا، 9 پولیس اہلکار زخمی اور 5 افراد گرفتار ہوئے۔
  • میڈرڈ میں مظاہرین کی تعداد 70 ہزار سے 5 لاکھ تک بتائی گئی۔
  • حکومت کی مجوزہ ہاؤسنگ قانون سازی کانگریس میں مسترد کر دی گئی۔
  • گزشتہ ایک سال میں گھروں کی قیمتوں میں 12.2 فیصد اور کرایوں میں 8.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
لوگ ایک بڑے بینر کے ساتھ مظاہرہ کر رہے ہیں جس پر ہسپانوی میں لکھا ہے 'عام ہڑتال'۔
اسپین میں ہاؤسنگ بحران کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، کرایہ داروں کے لیے بہتر تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ہفتے کے روز میڈرڈ، ویلنسیا اور بارسلونا سمیت اسپین کے مختلف شہروں میں تقریباً 50 احتجاجی مارچ نکالے گئے۔ پورے اسپین میں ہزاروں افراد نے کرایہ داروں کے لیے زیادہ تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ یہ احتجاج حکومت کی جانب سے ہنگامی ہاؤسنگ قانون سازی منظور کرانے میں ناکامی کے بعد کیا گیا۔ ’بی بی سی‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق ویلنسیا ٹیننٹس یونین کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’سڑکوں پر بہت غصہ ہے۔‘ شہر میں بعض مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم بھی ہوا۔

پیڈرو سانچیز کی بائیں بازو کی مخلوط حکومت کی جانب سے جمعہ کو پیش کی گئی تجاویز گزشتہ ماہ 87 سالہ ایک خاتون کو گھر سے بے دخل کیے جانے کے بعد عوامی غم و غصے کے پیش نظر کی گئی تھیں۔ خاتون کرایے میں اچانک اضافے کی رقم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھیں۔ خاتون کی بے دخلی کے بعد پورے اسپین میں احتجاج شروع ہوگیا تھا۔ مظاہرین کرایوں میں کمی، بے دخلی کے خاتمے اور سرمایہ کاری کرنے والے فنڈز، یا حکومت کی اصطلاح میں ’ولچر فنڈز‘ کے ذریعے جائیداد خریدنے پر پابندی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جمعہ کو کانگریس میں سانچیز کی شکست سے اس قیاس آرائی کو تقویت ملی ہے کہ وہ قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کر سکتے ہیں، حالانکہ عام انتخابات اگلی گرمیوں تک نہیں ہونے تھے۔ ان کی مخلوط حکومت میں ان کی حکمراں سوشلسٹ پارٹی اور جونیئر اتحادی سومار اتحاد شامل ہیں، تاہم اسے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل نہیں ہے۔

ہفتے کے روز مشرقی ساحلی شہر ویلنسیا میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کی تصاویر سامنے آئیں۔ یہ تصادم آرٹس سنٹر پالاؤ ڈی لیس آرتس رینا صوفیا کے قریب ہوا، جہاں رئیل اسٹیٹ سربراہی اجلاس جاری تھا۔ ہسپانوی میڈیا کے مطابق کئی مظاہرین نے رکاوٹیں ہٹا دیں اور پولیس اہلکاروں پر اشیا پھینکیں، جس کے جواب میں پولیس نے ربڑ کی گولیاں چلائیں۔ سرکاری نشریاتی ادارے ’آر ٹی وی ای‘ کے مطابق 9 پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور 5 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ سب سے بڑے مظاہروں میں سے ایک راجدھانی میڈرڈ میں ہوا، جہاں مظاہرین کی تعداد کے اندازوں میں کافی فرق تھا۔ شہر کی ٹیننٹس یونین نے دعویٰ کیا کہ 5 لاکھ افراد نے شرکت کی، جبکہ حکام نے تعداد 70 ہزار بتائی۔

ایک اور احتجاجی 26 سالہ لائبریرین مارکوس سینز نے خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ وہ پہلے دوستوں کے ساتھ 2 بیڈ روم والے فلیٹ میں رہتے تھے اور ماہانہ 900 یورو (766 پاؤنڈ) کرایہ ادا کرتے تھے۔ ان کے مطابق اب ایک بیڈ روم والے فلیٹ کا کرایہ اکثر 1000 یورو ہوتا ہے۔ سینز نے کہا کہ وہ کرایوں میں اضافے کے خلاف اس وقت تک احتجاج کرتے رہیں گے جب تک کوئی اس کی مکمل طور پر ضابطہ بندی کرنے کی ہمت نہیں کرتا، یا پھر ہم سب کو میڈرڈ چھوڑنا پڑے گا۔

جمعہ کی رات میڈرڈ کی ٹیننٹس یونین نے کہا کہ اگرچہ حکومت کی مجوزہ اقدامات ناکافی تھے، لیکن مجوزہ قانون سازی کو مسترد کیے جانے سے ہاؤسنگ بحران مزید سنگین ہوتا ہے، جو محنت کش طبقے کی زندگیوں کو تباہ کر رہا ہے۔ یونین ہاؤسنگ بحران کے خلاف عام ہڑتال کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جمعہ کو کانگریس میں پیش کی گئی قانون سازی کو 2 فرمانوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلے فرمان میں کمزور حالات سے دوچار کرایہ داروں کی بے دخلی 2030 تک معطل کرنا، 2028 سے پہلے ختم ہونے والے کرایے کے معاہدوں میں 2 سال کی توسیع، سیاحتی اپارٹمنٹس پر ٹیکس میں اضافہ اور نام نہاد ’ولچر فنڈز‘ کی جانب سے رہائشی جائیدادیں خریدنے پر پابندی شامل تھی۔

دوسرے فرمان میں کرایے کے معاہدوں کی خودکار تجدید شامل تھی، جو بائیں بازو کے کئی حلقوں اور ٹیننٹس یونین کا ایک اہم مطالبہ تھا۔ اراکین پارلیمنٹ نے پہلے فرمان کو 178 کے مقابلے میں 172 ووٹوں سے مسترد کر دیا، جبکہ دوسرے فرمان کے خلاف 184 کے مقابلے میں 166 ووٹ پڑے۔ ووٹنگ سے قبل قدامت پسند پیپلز پارٹی (پی پی) اور انتہائی دائیں بازو کی ووکس پارٹی پہلے ہی دونوں اقدامات کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کر چکی تھیں، جس کے باعث اقلیتی حکومت کو کاتالونیا اور باسک ملک کی چھوٹی قوم پرست جماعتوں کی حمایت پر انحصار کرنا پڑ رہا تھا۔ تاہم، پارلیمانی اجلاس کے موقع تک مرکز دائیں بازو کی اور آزادی کی حامی پارٹی ٹوگیدر فار کاتالونیا (جے ایکس کیٹ) نے دونوں قوانین کی مخالفت کا عندیہ دے دیا تھا، جس کے باعث ان کی منظوری کا امکان ختم ہوگیا۔

قومی ادارہ شماریات (آئی این ای) کے 2026 کی دوسری سہ ماہی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال میں گھروں کی قیمتوں میں 12.2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رینٹل ہاؤسنگ کی کمی کے باعث 2025 میں کرایوں میں 8.5 فیصد اضافہ ہوا، رئیل اسٹیٹ کمپنی آئیڈیالسٹا کے مطابق جبکہ صرف میڈرڈ میں کرایوں میں 9.7 فیصد اضافہ ہوا۔ ادارے کے مطابق بارسلونا اور میڈرڈ اسپین میں مکان کرائے پر لینے کے لیے سب سے مہنگے شہر ہیں، جہاں فی مربع میٹر کرایہ بالترتیب 23.80 یورو اور 22.70 یورو ہے۔

Share this story

WhatsAppXFacebook