لائیو ٹی وی

حکومت اور LIC کی اکثریتی ملکیت ختم حکومت کا 30.48 فیصد اور LIC کا 30.24 فیصد حصہ فروخت ہوگا، حکومت کے پاس 15 فیصد اور LIC کے پاس 19 فیصد حصہ باقیے گا

نئی دہلی، 18 اکتوبر: مرکزی حکومت نے سرکاری ملکیت والے اہم بینک IDBI Bank کے مستقبل کے حوالے سے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اس کے 60.72 فیصد حصص ایک غیر ملکی اسٹریٹجک سرمایہ کار کو فروخت کرنے کی منظوری…

مختصر جواب

نئی دہلی، 18 اکتوبر: مرکزی حکومت نے سرکاری ملکیت والے اہم بینک IDBI Bank کے مستقبل کے حوالے سے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اس کے 60.72 فیصد حصص ایک غیر ملکی اسٹریٹجک سرمایہ کار کو فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اہم نکات

  • نئی دہلی، 18 اکتوبر: مرکزی حکومت نے سرکاری ملکیت والے اہم بینک IDBI Bank کے مستقبل کے حوالے سے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اس کے 60.72 فیصد حصص ایک غیر ملکی اسٹریٹجک سرمایہ کار کو فروخت کرنے کی منظوری…
  • مرکزی کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی نے 14 اکتوبر 2026 کو کینیڈا کی Fairfax Financial Holdings کی ذیلی کمپنی کو IDBI Bank کا اسٹریٹجک خریدار منظور کیا۔
  • یہ سودا تقریباً 52,878.08 کروڑ روپے کا ہے اور اسے ہندوستان کے مالیاتی شعبے میں اب تک کے بڑے غیر ملکی سرمایہ کاری سودوں میں شمار کیا جارہا ہے۔
حکومت اور LIC کی اکثریتی ملکیت ختم حکومت کا 30.48 فیصد اور LIC کا 30.24 فیصد حصہ فروخت ہوگا، حکومت کے پاس 15 فیصد اور LIC کے پاس 19 فیصد حصہ باقیے گا
حکومت اور LIC کی اکثریتی ملکیت ختم حکومت کا 30.48 فیصد اور LIC کا 30.24 فیصد حصہ فروخت ہوگا، حکومت کے پاس 15 فیصد اور LIC کے پاس 19 فیصد حصہ باقیے گا

نئی دہلی، 18 اکتوبر: مرکزی حکومت نے سرکاری ملکیت والے اہم بینک IDBI Bank کے مستقبل کے حوالے سے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اس کے 60.72 فیصد حصص ایک غیر ملکی اسٹریٹجک سرمایہ کار کو فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ مرکزی کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی نے 14 اکتوبر 2026 کو کینیڈا کی Fairfax Financial Holdings کی ذیلی کمپنی کو IDBI Bank کا اسٹریٹجک خریدار منظور کیا۔

یہ سودا تقریباً 52,878.08 کروڑ روپے کا ہے اور اسے ہندوستان کے مالیاتی شعبے میں اب تک کے بڑے غیر ملکی سرمایہ کاری سودوں میں شمار کیا جارہا ہے۔

حکومت اور LIC کا کتنا حصہ فروخت ہوگا؟

IDBI Bank میں حکومت ہند اور سرکاری بیمہ کمپنی LIC کی مشترکہ بڑی حصے داری ہے۔ مجوزہ سودے کے تحت:

حکومت ہند اپنا 30.48 فیصد حصہ فروخت کرے گی۔

LIC اپنا 30.24 فیصد حصہ فروخت کرے گی۔

دونوں کا مجموعی 60.72 فیصد حصہ Fairfax کو منتقل ہوگا۔

سودے کے بعد حکومت کے پاس 15 فیصد حصہ رہے گا۔

LIC کے پاس 19 فیصد حصہ باقی رہے گا۔

اس طرح Fairfax بینک کی اکثریتی ملکیت اور انتظامی کنٹرول حاصل کرے گی۔

کیا IDBI Bank مکمل طور پر فروخت ہوگیا؟

یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔ IDBI Bank مکمل طور پر حکومت سے باہر نہیں ہوگا۔ حکومت اور LIC اقلیتی حصص برقرار رکھیں گے، لیکن 60.72 فیصد حصص کی منتقلی کے بعد بینک کا کنٹرول نجی اسٹریٹجک سرمایہ کار کے پاس چلا جائے گا۔

اسی وجہ سے اسے محض حصص فروخت کرنے کے بجائے Strategic Disinvestment یعنی اسٹریٹجک نجکاری کہا جارہا ہے۔

مودی حکومت کا کیا مؤقف ہے؟

مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ IDBI Bank کو اسٹریٹجک سرمایہ کار کے ذریعے نئی سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور بہتر انتظامی طریقوں کا فائدہ مل سکتا ہے۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بینک کی کاروباری صلاحیت اور ترقی کے امکانات کو بہتر بنانا ہے۔

حکومت کے مطابق اسٹریٹجک سرمایہ کار کی آمد سے بینک کو مستقبل میں حکومت یا LIC کی مالی مدد پر کم انحصار کرنا پڑے گا۔

IDBI Bank کی مالی مشکلات کی پرانی کہانی

IDBI Bank کا ماضی مالی مشکلات سے بھی جڑا رہا ہے۔ بینک کے خراب قرضوں اور نقصانات کے باعث RBI نے 2017 میں اسے Prompt Corrective Action (PCA) کے تحت رکھا تھا۔

بعد میں بینک کی مالی حالت میں بہتری آئی اور RBI نے مارچ 2021 میں PCA کے تحت عائد پابندیاں ختم کردیں، تاہم بینک کی ملکیت اور مستقبل کو لے کر حکومت کی نجکاری کی پالیسی جاری رہی۔

نجکاری کا فیصلہ کب ہوا تھا؟

IDBI Bank کے اسٹریٹجک ڈس انویسٹمنٹ کی کہانی نئی نہیں ہے۔ مئی 2021 میں مرکزی کابینہ نے اصولی طور پر بینک کی اسٹریٹجک نجکاری اور انتظامی کنٹرول منتقل کرنے کی منظوری دی تھی۔

اکتوبر 2022 میں حکومت نے اس سلسلے میں Expression of Interest یعنی ابتدائی دلچسپی طلب کی۔ اس کے بعد ممکنہ خریداروں کی جانچ، ریگولیٹری منظوری اور مالی بولیوں کا عمل آگے بڑھا۔

پہلے بولیاں کیوں نہیں ہو سکیں؟

IDBI Bank کی نجکاری کا عمل کئی مرتبہ تاخیر کا شکار ہوا۔ 2026 کے آغاز میں Fairfax Financial Holdings اور Emirates NBD کی مالی بولیاں حکومت کے مقرر کردہ ریزرو پرائس سے کم بتائی گئی تھیں، جس کے بعد عمل کو روک دیا گیا تھا۔

بعد میں حکومت نے دوبارہ عمل شروع کیا اور دونوں ممکنہ خریداروں سے نظرثانی شدہ مالی بولیاں طلب کیں۔ جولائی 2026 میں نظرثانی شدہ بولیاں موصول ہوئیں اور ستمبر تک حکومت ان کا جائزہ لے رہی تھی۔

آخرکار Fairfax کامیاب

طویل عمل کے بعد حکومت نے Fairfax Financial کی ذیلی کمپنی کو کامیاب اسٹریٹجک خریدار قرار دیا۔ Fairfax نے 81 روپے فی شیئر کی پیشکش کی، جو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ 75.99 روپے کی منصفانہ قدر سے زیادہ تھی۔

Fairfax کے سربراہ ہندوستانی نژاد کینیڈین ارب پتی سرمایہ کار Prem Watsa ہیں۔ کمپنی پہلے ہی ہندوستان کے بینکنگ شعبے میں موجود ہے اور CSB Bank میں بھی بڑی حصے داری رکھتی ہے۔

صارفین پر کیا اثر پڑے گا؟

IDBI Bank کے عام صارفین کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ملکیت تبدیل ہونے کے بعد ان کے کھاتوں، جمع شدہ رقم، قرضوں اور بینکنگ خدمات پر کیا اثر پڑے گا۔

صرف حصص کی ملکیت تبدیل ہونے سے صارفین کے موجودہ بینک اکاؤنٹس یا جمع شدہ رقم خود بخود ختم نہیں ہوتی۔ بینک RBI کے ضابطوں کے تحت کام کرتا رہے گا۔ تاہم نئی انتظامیہ مستقبل میں بینک کی کاروباری حکمت عملی، قرض دینے کی پالیسی، ٹیکنالوجی، شاخوں اور خدمات کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کرسکتی ہے۔

ملازمین میں بھی تشویش

بینک کی نجکاری کے ساتھ ملازمین کے مستقبل کو لے کر بھی سوال اٹھتے رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ملازمین کے مفادات، ملازمتوں اور پنشن سے متعلق موجودہ انتظامات کو تحفظ دینے کی بات کہی گئی ہے۔ تاہم طویل مدت میں نئی انتظامیہ کی کاروباری حکمت عملی کے مطابق تنظیمی تبدیلیاں ممکن ہیں۔

کیا حکومت کا بینکنگ شعبے سے پیچھے ہٹنا جاری ہے؟

IDBI Bank کا سودا مودی حکومت کی وسیع تر Disinvestment اور Privatisation Policy کا حصہ ہے۔ حکومت کا بنیادی مؤقف ہے کہ حکومت کا کام ہر کاروبار چلانا نہیں بلکہ معیشت کے لیے ضروری پالیسی، نگرانی اور ریگولیٹری کردار ادا کرنا ہے۔

حکومت گزشتہ برسوں میں Air India سمیت کئی سرکاری اداروں میں اسٹریٹجک ڈس انویسٹمنٹ کرچکی ہے۔ IDBI Bank کا معاملہ اس لیے زیادہ اہم ہے کیونکہ یہ بینکنگ اور مالیاتی شعبے میں حکومت کی ملکیت کے مستقبل سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔

ناقدین کے سوالات بھی اہم

دوسری جانب حکومت کے اس فیصلے پر سیاسی اور اقتصادی سطح پر سوالات بھی اٹھ سکتے ہیں۔ ناقدین کا بنیادی سوال یہ ہے کہ جن سرکاری اداروں میں عوام کا سرمایہ لگا ہوا ہے، انہیں نجی یا غیر ملکی سرمایہ کاروں کے حوالے کرنے کا طویل مدتی فائدہ عام عوام کو کس حد تک ملے گا۔

یہ بھی سوال ہے کہ مستقبل میں بینک کے منافع، روزگار، شاخوں، قرضوں اور عوامی بینکنگ خدمات کے حوالے سے نئی انتظامیہ کی ترجیحات کیا ہوں گی۔

حکومت کی طرف سے اس کا جواب یہی ہے کہ اسٹریٹجک سرمایہ کار کی آمد سے بینک میں نئی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور بہتر انتظامی صلاحیت آئے گی اور IDBI Bank کو زیادہ مسابقتی بنانے میں مدد ملے گی۔

ابھی کچھ ریگولیٹری مراحل باقی

کابینہ کی منظوری کے باوجود یہ عمل فوری طور پر مکمل نہیں ہوجاتا۔ سودے کو متعلقہ ریگولیٹری شرائط اور Reserve Bank of India کی منظوری سمیت مقررہ قانونی مراحل سے گزرنا ہوگا۔

ایک نئے دور کا آغاز

IDBI Bank کی اکثریتی حصے داری کا Fairfax کو منتقل ہونا ہندوستانی بینکنگ شعبے میں ایک اہم تبدیلی ہے۔ حکومت اور LIC کی اکثریتی ملکیت کے دور کے بعد اب بینک ایک غیر ملکی اسٹریٹجک سرمایہ کار کے کنٹرول میں جانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

یہ سودا حکومت کی نجکاری پالیسی کے حامیوں کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے، جبکہ ناقدین کے لیے یہ سوال اٹھانے کا موقع بھی ہے کہ عوامی ملکیت کے مالیاتی اداروں میں حکومت کا کردار مستقبل میں کتنا باقی رہنا چاہیے۔

IDBI Bank کی کہانی اب صرف ایک بینک کی ملکیت کی تبدیلی نہیں رہی، بلکہ یہ ہندوستان میں سرکاری بینکنگ، نجکاری، غیر ملکی سرمایہ کاری اور عوامی مفاد کے درمیان توازن کی ایک بڑی مثال بن

Share this story

WhatsAppXFacebook